خُداوند یسوع مسیح کے بارے میں اہم سوالات اور بائبل کے مطابق جوابات
خُداوند یسوع مسیح خُدا کا اکلوتا بیٹا ہے جو ابتدا سے خُدا کے ساتھ تھا اور خود خُدا تھا۔ وہ جسم میں آیا تاکہ اِنسانوں کو گناہ سے نجات دے۔ وہ فرماتا ہے کہ راہ، حق اور زندگی مَیں ہوں، کوئی میرے وسیلے کے بغیر خُدا باپ کے پاس نہیں آتا۔
یُوحنّا ۱:۱-۱۴ ، یُوحنّا ۱۴:۶نجات گناہ کی سزا سے چھٹکارا ہے جو خُدا کے فضل سے ایمان کے ذریعے ملتی ہے۔ یہ ہمارے اعمال کا نتیجہ نہیں بلکہ خُدا کا مفت تحفہ ہے تاکہ کوئی فخر نہ کرے۔ جو کوئی یسوع مسیح پر ایمان لائے وہ نجات پاتا ہے۔
افسیوں ۲:۸-۹کلامِ مُقدّس خُدا کا الہامی کلام ہے جو روح القدس کی ترغیب سے لکھا گیا۔ اِس میں ۶۶ کتابیں ہیں — ۳۹ پُرانے عہد نامے کی اور ۲۷ نئے عہد نامے کی۔ ہر صحیفہ خُدا کے الہام سے ہے اور تعلیم، تنبیہ، اِصلاح اور راستبازی کی تربیت کے لیے فائدہ مند ہے۔
۲ تیمتھیس ۳:۱۶خُدا ایک ہے جو تین اقنوم میں ظاہر ہوا — باپ، بیٹا اور روح القدس۔ خُداوند یسوع مسیح نے حکم دیا کہ باپ اور بیٹے اور روح القدس کے نام سے بپتسمہ دو۔ خُدا ابدی، قادرِ مطلق، محبت اور پاکیزگی میں کامل ہے۔
متی ۲۸:۱۹گناہ خُدا کے قانون کی خلاف ورزی ہے اور سب نے گناہ کیا ہے اور خُدا کے جلال سے محروم ہیں۔ گناہ کی مزدوری موت ہے لیکن خُدا کی بخشش یسوع مسیح میں ہمیشہ کی زندگی ہے۔ ہر اِنسان کو نجات دہندہ کی ضرورت ہے۔
رومیوں ۳:۲۳ ، رومیوں ۶:۲۳صلیب اِس لیے ضروری تھی کہ گناہ کی مزدوری موت ہے اور بغیر خون بہائے معافی نہیں ہوتی۔ خُدا نے اپنی محبت کا ثبوت دیا کہ جب ہم ابھی گنہگار ہی تھے تو مسیح ہماری خاطر مر گیا۔ صلیب پر یسوع مسیح نے ہمارے گناہوں کا کفارہ ادا کیا۔
رومیوں ۵:۸یسوع مسیح اِس لیے آئے کہ گم شدہ کو ڈھونڈیں اور نجات دیں۔ خُدا نے دُنیا سے ایسی محبت رکھی کہ اپنا اکلوتا بیٹا بخش دیا تاکہ جو کوئی اُس پر ایمان لائے ہلاک نہ ہو بلکہ ہمیشہ کی زندگی پائے۔
لُوقا ۱۹:۱۰ایمان اُمید کی ہوئی چیزوں کا یقین اور اَن دیکھی چیزوں کی دلیل ہے۔ ایمان کے بغیر خُدا کو خوش کرنا ناممکن ہے کیونکہ خُدا کے پاس آنے والے کو یقین کرنا ضروری ہے کہ وہ موجود ہے اور اپنے طالبوں کو اجر دیتا ہے۔
عبرانیوں ۱۱:۱توبہ کا مطلب گناہ سے پھر کر خُدا کی طرف رجوع کرنا ہے۔ پطرس رسول نے کہا کہ توبہ کرو اور گناہوں کی معافی کے لیے یسوع مسیح کے نام سے بپتسمہ لو تو روح القدس کی نعمت پاؤ گے۔ توبہ دل کی تبدیلی اور زندگی کی نئی سمت ہے۔
اعمال ۲:۳۸بپتسمہ ایمان کا اعلان ہے جس میں ایماندار مسیح کی موت میں شامل ہو کر دفن ہوتا ہے اور جس طرح مسیح مُردوں میں سے جی اُٹھا اُسی طرح نئی زندگی میں چلنے کے لیے اُٹھایا جاتا ہے۔ یہ پُرانی زندگی کے مرنے اور مسیح میں نئی زندگی کی علامت ہے۔
رومیوں ۶:۳-۴جب یسوع مسیح نے بپتسمہ لیا تو آسمان سے آواز آئی کہ یہ میرا پیارا بیٹا ہے جس سے مَیں خوش ہوں۔ خُدا باپ نے خود اپنے بیٹے کی گواہی دی۔ یسوع مسیح خُدا کا ازلی بیٹا ہے جو باپ کی ذات کا نقش ہے۔
متی ۳:۱۷یسوع مسیح کنواری مریم سے پیدا ہوئے جب روح القدس اُس پر نازل ہوا۔ یہ سب اِس لیے ہوا کہ نبی کا کلام پورا ہو کہ دیکھو ایک کنواری حاملہ ہوگی اور بیٹا جنے گی اور اُس کا نام عمانوایل رکھیں گے جس کا مطلب ہے خُدا ہمارے ساتھ۔
متی ۱:۱۸-۲۳یسوع مسیح نے اندھوں کو بینائی دی، لنگڑوں کو چلایا، کوڑھیوں کو پاک کیا، بہروں کو سُننے کی طاقت دی اور مُردوں کو زندہ کیا۔ اُنہوں نے طوفان کو تھمایا، پانی پر چلے اور ہزاروں کو کھانا کھلایا۔ یہ معجزات ثابت کرتے ہیں کہ وہ خُدا کا بیٹا ہے۔
متی ۱۱:۴-۵یسوع مسیح نے فرمایا کہ اِبنِ آدم اِس لیے نہیں آیا کہ خدمت لے بلکہ اِس لیے کہ خدمت کرے اور اپنی جان بہتیروں کے بدلے فدیے میں دے۔ وہ بے گناہ ہوتے ہوئے ہمارے گناہوں کا بوجھ اُٹھانے کے لیے مرے تاکہ ہمیں نجات ملے۔
مرقس ۱۰:۴۵یسوع مسیح تیسرے دن مُردوں میں سے جی اُٹھے جیسا کہ کلامِ مُقدّس میں لکھا تھا۔ قبر خالی پائی گئی اور وہ پانچ سو سے زیادہ بھائیوں کو ایک وقت میں دکھائی دیے۔ یہ مسیحی ایمان کی بنیاد ہے کہ مسیح مُردوں میں سے جی اُٹھا۔
۱ کرنتھیوں ۱۵:۳-۶یسوع مسیح آسمان پر اُٹھائے گئے اور خُدا کی دہنی طرف بیٹھے ہیں جہاں وہ ہمارے لیے شفاعت کرتے ہیں۔ وہ خُدا کے جلال کا عکس اور اُس کی ذات کا نقش ہے اور اپنے قدرت کے کلام سے سب چیزوں کو سنبھالے ہوئے ہے۔
عبرانیوں ۱:۳یسوع مسیح نے فرمایا کہ اُس دن اور اُس گھڑی کو کوئی نہیں جانتا نہ آسمان کے فرشتے نہ بیٹا بلکہ صرف باپ جانتا ہے۔ اِس لیے ہمیں ہمیشہ تیار رہنا چاہیے کیونکہ وہ ایسی گھڑی میں آئے گا جس کا ہمیں گمان نہ ہوگا۔
متی ۲۴:۳۶یسوع مسیح نے سکھایا کہ خُداوند اپنے خُدا سے اپنے سارے دل اور ساری جان اور ساری عقل سے محبت رکھ اور اپنے پڑوسی سے اپنی مانند محبت رکھ۔ اُنہوں نے توبہ، ایمان، محبت اور خُدا کی بادشاہی کی خوشخبری کی منادی کی۔
مرقس ۱۲:۳۰-۳۱یسوع مسیح نے بارہ شاگردوں کو چُنا جنہیں رسول بھی کہا جاتا ہے۔ اُنہوں نے ساری رات خُدا سے دُعا کی اور پھر اِن بارہ کو منتخب کیا۔ یہ رسول مسیح کی تعلیم کے گواہ اور کلیسیا کی بنیاد بنے۔
لُوقا ۶:۱۳-۱۶یسوع مسیح نے اندھوں کو بینا کیا، لنگڑوں کو چلایا، کوڑھیوں کو پاک کیا، بہروں کو شنوائی دی اور مُردوں کو جِلایا۔ اُنہوں نے ہر طرح کی بیماری اور ہر طرح کی کمزوری کو دور کیا اور رحم سے بھر کر لوگوں کو شفا بخشی۔
متی ۱۱:۴-۵فضل خُدا کی غیر مستحق مہربانی ہے جو ہمیں مسیح یسوع کے وسیلے سے ملتی ہے۔ ہم فضل ہی سے ایمان کے ذریعے نجات پاتے ہیں اور یہ ہمارا کام نہیں بلکہ خُدا کی بخشش ہے۔ فضل وہ ہے جو ہمیں ملتا ہے جس کے ہم مستحق نہیں۔
افسیوں ۲:۸ابدی زندگی خُدا کا وعدہ ہے کہ جو کوئی اُس کے اکلوتے بیٹے پر ایمان لائے وہ ہلاک نہ ہو بلکہ ہمیشہ کی زندگی پائے۔ یہ صرف لمبی زندگی نہیں بلکہ خُدا کے ساتھ ابدی رفاقت ہے جو یسوع مسیح میں شروع ہوتی ہے۔
یُوحنّا ۳:۱۶کلامِ مُقدّس یقین دلاتا ہے کہ نہ موت، نہ زندگی، نہ فرشتے، نہ حکومتیں، نہ موجودہ، نہ آنے والی چیزیں ہمیں خُدا کی اُس محبت سے جُدا کر سکتی ہیں جو مسیح یسوع میں ہے۔ جو خُدا کے ہاتھ میں ہے اُسے کوئی چھین نہیں سکتا۔
رومیوں ۸:۳۸-۳۹نہیں، نجات اعمال سے نہیں ملتی۔ فضل ہی سے ایمان کے وسیلے نجات ہے اور یہ خُدا کی بخشش ہے نہ کہ اعمال کا نتیجہ تاکہ کوئی فخر نہ کرے۔ اچھے اعمال نجات کا سبب نہیں بلکہ نجات کا نتیجہ ہیں۔
افسیوں ۲:۸-۹کفارہ وہ قیمت ہے جو یسوع مسیح نے ہمارے گناہوں کے بدلے صلیب پر ادا کی۔ اُس کے بیٹے یسوع مسیح کا خون ہمیں ہر گناہ سے پاک کرتا ہے۔ مسیح کا خون بے عیب اور بے داغ برّے کا خون ہے جو ہمارے سب گناہوں کو دھو دیتا ہے۔
۱ یُوحنّا ۱:۷ایمان سے راستباز ٹھہر کر ہم اپنے خُداوند یسوع مسیح کے وسیلے سے خُدا کے ساتھ صُلح رکھتے ہیں۔ پہلے ہم گناہ کی وجہ سے خُدا سے دُور تھے لیکن مسیح کی صلیبی موت نے خُدا اور اِنسان کے درمیان کی دیوار گِرا دی۔
رومیوں ۵:۱یسوع مسیح نے فرمایا کہ جب تک کوئی نئے سرے سے پیدا نہ ہو وہ خُدا کی بادشاہی میں داخل نہیں ہو سکتا۔ نیا جنم پانی اور روح سے ہونا ضروری ہے۔ یہ روحانی تبدیلی ہے جو روح القدس کے کام سے ایماندار کے دل میں ہوتی ہے۔
یُوحنّا ۳:۳-۵جو کوئی مسیح میں ہے وہ نئی مخلوق ہے، پُرانی چیزیں جاتی رہیں اور سب چیزیں نئی ہو گئیں۔ مسیح میں ایماندار کی پُرانی زندگی، عادات اور سوچ بدل جاتی ہے اور خُدا اُسے بالکل نیا بنا دیتا ہے۔
۲ کرنتھیوں ۵:۱۷راستبازی خُدا کی طرف سے ملتی ہے جو یسوع مسیح پر ایمان کے ذریعے سب ایمان لانے والوں کو حاصل ہوتی ہے۔ یہ ہمارے اپنے اعمال کی نہیں بلکہ خُدا کی بخشی ہوئی راستبازی ہے جو مسیح کے خون کے وسیلے سے ملتی ہے۔
رومیوں ۳:۲۲چھٹکارہ یسوع مسیح کے قیمتی خون سے ملا ہے نہ کہ سونے چاندی جیسی فانی چیزوں سے۔ خُدا نے ہمیں گناہ کی غلامی سے آزاد کیا اور بے عیب اور بے داغ برّے یعنی مسیح کے خون سے مول لیا۔
۱ پطرس ۱:۱۸-۱۹روح القدس وہ مددگار ہے جس کا وعدہ یسوع مسیح نے اپنے شاگردوں سے کیا تھا۔ وہ فرمایا کہ مَیں باپ سے درخواست کروں گا اور وہ تمہیں دوسرا مددگار دے گا کہ ابد تک تمہارے ساتھ رہے یعنی سچائی کا روح۔ روح القدس خُدا کا تیسرا اقنوم ہے۔
یُوحنّا ۱۴:۱۶-۱۷روح القدس دُنیا کو گناہ، راستبازی اور عدالت کے بارے میں قائل کرتا ہے۔ وہ ایمانداروں کو تمام سچائی کی راہ دکھاتا ہے اور آنے والی باتیں بتاتا ہے۔ روح القدس مسیح کا جلال ظاہر کرتا اور ایمانداروں کو تعلیم دیتا ہے۔
یُوحنّا ۱۶:۸-۱۳روح القدس مختلف ایمانداروں کو مختلف نعمتیں دیتا ہے جن میں حکمت، علم، ایمان، شفا، معجزات، نبوت اور زبانیں شامل ہیں۔ یہ سب نعمتیں ایک ہی روح کی طرف سے ہیں جو اپنی مرضی کے مطابق ہر ایک کو الگ الگ بانٹتا ہے۔
۱ کرنتھیوں ۱۲:۴-۱۱روح کا پھل محبت، خوشی، اطمینان، صبر، مہربانی، نیکی، ایمانداری، حلیمی اور پرہیزگاری ہے۔ یہ صفات روح القدس کے کام سے ایماندار کی زندگی میں پیدا ہوتی ہیں۔ ایسی باتوں کے خلاف کوئی شریعت نہیں۔
گلتیوں ۵:۲۲-۲۳روح القدس کے بپتسمے سے تمام ایماندار ایک بدن میں شامل کیے گئے ہیں خواہ یہودی ہوں یا یونانی، غلام ہوں یا آزاد۔ ایک ہی روح نے ہم سب کو ایک بدن یعنی مسیح کی کلیسیا میں بپتسمہ دیا۔
۱ کرنتھیوں ۱۲:۱۳یسوع مسیح نے فرمایا کہ جب تم بُرے ہو کر اپنے بچوں کو اچھی چیزیں دینا جانتے ہو تو آسمانی باپ اپنے مانگنے والوں کو روح القدس کیوں نہ دے گا۔ خُدا روح القدس اُنہیں دیتا ہے جو اُس سے مانگتے اور ایمان لاتے ہیں۔
لُوقا ۱۱:۱۳ہاں، ہر ایماندار کا بدن روح القدس کا مقدِس ہے جو خُدا کی طرف سے اُس میں بستا ہے۔ ہم اپنے آپ کے نہیں کیونکہ قیمت سے خریدے گئے ہیں۔ اِس لیے ہمیں اپنے بدن سے خُدا کا جلال ظاہر کرنا چاہیے۔
۱ کرنتھیوں ۶:۱۹پنتکست کے دن روح القدس آگ کی زبانوں کی صورت میں شاگردوں پر نازل ہوا اور وہ مختلف زبانوں میں بولنے لگے۔ یہ وہ دن تھا جب خُدا نے اپنا وعدہ پورا کیا اور کلیسیا کی بنیاد رکھی گئی۔
اعمال ۲:۱-۴کلامِ مُقدّس میں حکم ہے کہ خُدا کے روح القدس کو غمگین نہ کرو جس سے تم پر مہر ہوئی ہے۔ گناہ، جھوٹ، بدکلامی اور کینہ رکھنا روح القدس کو غمگین کرتا ہے۔ ایمانداروں کو پاکیزگی میں زندگی گزارنی چاہیے۔
افسیوں ۴:۳۰روح القدس ہماری کمزوری میں مدد کرتا ہے کیونکہ ہم نہیں جانتے کہ کیسے دُعا کریں۔ روح خود ایسی آہوں سے جو بیان سے باہر ہیں ہماری شفاعت کرتا ہے۔ وہ خُدا کی مرضی کے مطابق مقدسوں کی شفاعت کرتا ہے۔
رومیوں ۸:۲۶خُداوندی دُعا وہ نمونے کی دُعا ہے جو یسوع مسیح نے شاگردوں کو سکھائی — اے ہمارے باپ تُو جو آسمان پر ہے تیرا نام پاک مانا جائے۔ اِس دُعا میں خُدا کی حمد، اُس کی مرضی، روزانہ کی ضرورتیں، معافی اور آزمائش سے حفاظت شامل ہے۔
متی ۶:۹-۱۳یسوع مسیح نے فرمایا کہ جو کچھ میرے نام سے مانگو گے وہ مَیں کروں گا تاکہ باپ بیٹے میں جلال پائے۔ ایمان، سچائی اور خُدا کی مرضی کے مطابق دُعا مانگیں تو باپ سُنتا ہے۔ دُعا خُدا سے بات کرنے کا ذریعہ ہے۔
یُوحنّا ۱۶:۲۳-۲۴ہاں، اگر ہم خُدا کی مرضی کے مطابق کچھ مانگتے ہیں تو وہ ہماری سُنتا ہے۔ اور جب ہم جانتے ہیں کہ وہ ہماری سُنتا ہے تو یہ بھی جانتے ہیں کہ جو کچھ ہم نے مانگا وہ ہمیں مل گیا۔ خُدا اپنے بچوں کی دُعا سے خوش ہوتا ہے۔
۱ یُوحنّا ۵:۱۴یسوع مسیح نے فرمایا کہ جب تم روزہ رکھو تو لوگوں کو دکھانے کے لیے نہیں بلکہ پوشیدگی میں رکھو اور تمہارا باپ جو پوشیدگی میں دیکھتا ہے تمہیں بدلہ دے گا۔ روزہ خُدا کے قریب آنے، دُعا میں گہرائی اور روحانی طاقت کا ذریعہ ہے۔
متی ۶:۱۶-۱۸یسوع مسیح نے فرمایا کہ سچے عبادت کرنے والے باپ کی عبادت روح اور سچائی سے کریں گے کیونکہ باپ ایسے ہی عبادت کرنے والوں کو ڈھونڈتا ہے۔ خُدا روح ہے اور اُس کے عبادت کرنے والوں کو روح اور سچائی سے عبادت کرنی چاہیے۔
یُوحنّا ۴:۲۳-۲۴کلامِ مُقدّس سکھاتا ہے کہ ہر شخص اپنے دل میں ٹھان کر دے نہ دکھ سے اور نہ لاچاری سے کیونکہ خُدا خوشی سے دینے والے سے محبت رکھتا ہے۔ سخاوت سے دینا مسیحی زندگی کا حصہ ہے اور خُدا کے کام میں شراکت ہے۔
۲ کرنتھیوں ۹:۷کلامِ مُقدّس فرماتا ہے کہ ہر حال میں شکر کرو کیونکہ تمہارے حق میں مسیح یسوع میں خُدا کی یہی مرضی ہے۔ شکرگزاری ایمان کی علامت ہے اور ہر حال میں خُدا کی مہربانی کو تسلیم کرنا ہے۔
۱ تھسلنیکیوں ۵:۱۸کلامِ مُقدّس فرماتا ہے کہ آپس میں جمع ہونا نہ چھوڑو جیسا بعض لوگوں کا دستور ہے بلکہ ایک دوسرے کو نصیحت کرو۔ کلیسیا میں جمع ہونا ایمان کی مضبوطی، رفاقت اور ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کے لیے ضروری ہے۔
عبرانیوں ۱۰:۲۵حمد و ثنا خُدا کی تعریف اور بڑائی ہے۔ کلامِ مُقدّس فرماتا ہے کہ مسیح کا کلام تم میں کثرت سے بسا رہے اور زبُور، حمد کے گیت اور روحانی گیتوں سے خُداوند کی حمد کرو۔ حمد خُدا کے حضور آنے کا خوبصورت طریقہ ہے۔
کلسیوں ۳:۱۶مسیحی مراقبہ خُدا کے کلام پر دن رات غور کرنا ہے۔ زبُور نویس فرماتا ہے کہ مبارک ہے وہ شخص جو خُداوند کی شریعت میں خوش ہوتا ہے اور رات دن اُس کی شریعت پر غور کرتا ہے۔ یہ روحانی بالیدگی اور خُدا کے قریب آنے کا ذریعہ ہے۔
زبُور ۱:۲کلامِ مُقدّس فرماتا ہے کہ روح کے موافق چلو تو جسم کی خواہش کبھی پوری نہ کرو گے۔ مسیحی زندگی روح القدس کی رہنمائی میں گزارنی چاہیے۔ ہر روز دُعا، کلام کا مطالعہ اور خُدا کی فرمانبرداری مسیحی زندگی کی بنیاد ہے۔
گلتیوں ۵:۱۶یسوع مسیح نے فرمایا کہ خُداوند اپنے خُدا سے اپنے سارے دل، ساری جان اور ساری عقل سے محبت رکھ — یہ بڑا اور پہلا حکم ہے۔ اور دوسرا اُسی کی مانند ہے کہ اپنے پڑوسی سے اپنی مانند محبت رکھ۔ ساری شریعت اور نبی اِنہی دو حکموں پر موقوف ہیں۔
متی ۲۲:۳۷-۳۹کلامِ مُقدّس فرماتا ہے کہ جیسے خُداوند نے تمہیں معاف کیا ویسے ہی تم بھی ایک دوسرے کو معاف کرو۔ اگر ہم دوسروں کو معاف نہیں کرتے تو ہمارا آسمانی باپ بھی ہمیں معاف نہیں کرے گا۔ معافی مسیحی زندگی کا لازمی حصہ ہے۔
کلسیوں ۳:۱۳کلامِ مُقدّس سکھاتا ہے کہ مصیبت سے صبر، صبر سے تجربہ اور تجربے سے اُمید پیدا ہوتی ہے۔ صبر ایمان کی آزمائش سے بنتا ہے اور مسیحی کردار کو مضبوط کرتا ہے۔ خُدا صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
رومیوں ۵:۳-۴کلامِ مُقدّس فرماتا ہے کہ اپنی ساری فکر اُس پر ڈال دو کیونکہ اُسے تمہاری فکر ہے۔ خُدا ہماری ہر ضرورت کو جانتا ہے اور ہم سے محبت رکھتا ہے۔ پریشانی میں دُعا اور اِلتجا خُدا کے حضور پیش کرو تو خُدا کا اطمینان تمہارے دلوں کی حفاظت کرے گا۔
۱ پطرس ۵:۷کلامِ مُقدّس فرماتا ہے کہ شوہرو اپنی بیویوں سے محبت رکھو جیسے مسیح نے کلیسیا سے محبت کی اور اپنے آپ کو اُس کے لیے دے دیا۔ مسیحی شادی خُدا کا مقرر کردہ عہد ہے جس میں میاں بیوی مسیح کی محبت کی مثال ہیں۔
افسیوں ۵:۲۵-۲۸کلامِ مُقدّس فرماتا ہے کہ لڑکے کو اُس راہ کی تربیت دو جس پر اُسے چلنا چاہیے تو بڑھاپے میں بھی اُس سے نہ ہٹے گا۔ اولاد کی تربیت خُدا کے کلام، محبت اور نظم و ضبط کے ساتھ کرنی چاہیے تاکہ وہ خُداوند کی راہ پر چلیں۔
امثال ۲۲:۶کلامِ مُقدّس فرماتا ہے کہ بدی سے مغلوب نہ ہو بلکہ نیکی سے بدی پر غالب آؤ۔ یسوع مسیح نے سکھایا کہ اپنے دشمنوں سے محبت رکھو اور جو تم سے بغض رکھیں اُن کے لیے دُعا کرو۔ مسیحی بدی کا جواب نیکی سے دیتے ہیں۔
رومیوں ۱۲:۲۱کلامِ مُقدّس سکھاتا ہے کہ مصیبت سے صبر پیدا ہوتا ہے اور ایمان کی آزمائش صبر پیدا کرتی ہے۔ دکھ ایماندار کو پختہ اور کامل بناتے ہیں۔ خُدا دکھ کے وقت ہمارے ساتھ ہوتا ہے اور سب باتوں کو مل کر بھلائی کے لیے کام میں لاتا ہے۔
رومیوں ۵:۳-۴ ، یعقوب ۱:۲-۴کلامِ مُقدّس فرماتا ہے کہ اِس جہان کے ہم شکل نہ بنو بلکہ عقل نئی ہو جانے سے اپنی صورت بدلتے جاؤ تاکہ خُدا کی نیک اور پسندیدہ اور کامل مرضی تجربے سے معلوم کر سکو۔ دُعا، کلام کا مطالعہ اور روح القدس کی رہنمائی سے خُدا کی مرضی جانی جاتی ہے۔
رومیوں ۱۲:۲پُرانا عہد نامہ بائبل کا پہلا حصہ ہے جس میں ۳۹ کتابیں ہیں جو تخلیق سے لے کر نبیوں تک کا بیان ہے۔ یسوع مسیح نے فرمایا کہ موسیٰ اور سب نبیوں سے شروع کر کے اپنے حق میں تمام صحیفوں کا مطلب بیان کیا۔ پُرانا عہد نامہ مسیح کی آمد کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
لُوقا ۲۴:۲۷نیا عہد نامہ بائبل کا دوسرا حصہ ہے جس میں ۲۷ کتابیں ہیں جو مسیح کی زندگی، ابتدائی کلیسیا کی تاریخ، خطوط اور مکاشفہ پر مشتمل ہیں۔ ہر صحیفہ خُدا کے الہام سے ہے اور تعلیم، تنبیہ اور راستبازی کی تربیت کے لیے فائدہ مند ہے۔
۲ تیمتھیس ۳:۱۶-۱۷بائبل میں کُل ۶۶ کتابیں اور ۱۱۸۹ ابواب ہیں۔ پُرانے عہد نامے میں ۳۹ کتابیں اور نئے عہد نامے میں ۲۷ کتابیں ہیں۔ یہ سب کتابیں خُدا کے الہام سے لکھی گئیں اور ہماری تعلیم اور رہنمائی کے لیے ہیں۔
۲ تیمتھیس ۳:۱۶دس احکام وہ شریعت ہے جو خُدا نے موسیٰ کو کوہِ سینا پر دی۔ اِن میں خُدا کے سامنے کوئی اَور معبود نہ رکھنا، بُت نہ بنانا، خُدا کا نام بے فائدہ نہ لینا، سبت کا دن یاد رکھنا، ماں باپ کی عزت کرنا، خون نہ کرنا، زنا نہ کرنا، چوری نہ کرنا، جھوٹی گواہی نہ دینا اور لالچ نہ کرنا شامل ہے۔
خروج ۲۰:۱-۱۷زبُور بائبل کی کتاب ہے جس میں گیت، دُعائیں اور حمد کے کلام ہیں جو زیادہ تر داؤد بادشاہ نے لکھے۔ زبُور نویس نے دُعا کی کہ میرے منہ کی باتیں اور میرے دل کا خیال تیرے حضور پسند آئے اے خُداوند۔ زبُور ہر حال میں خُدا کی طرف رجوع کرنا سکھاتا ہے۔
زبُور ۱۹:۱۴زبُور نویس فرماتا ہے کہ تیرا کلام میرے قدموں کے لیے چراغ اور میری راہ کے لیے روشنی ہے۔ بائبل پڑھنا اِس لیے ضروری ہے کہ یہ خُدا کی مرضی جاننے، ایمان میں بڑھنے اور زندگی کی راہ پر چلنے کا واحد معیار ہے۔
زبُور ۱۱۹:۱۰۵خُدا کا کلام زندہ اور مؤثر ہے اور ہر دو دھاری تلوار سے تیز ہے۔ یہ جان اور رُوح کو جُدا کرتا ہے اور دل کے خیالوں اور ارادوں کو جانچتا ہے۔ خُدا کا کلام ہر دور میں تازہ اور طاقتور رہتا ہے کیونکہ یہ زندہ خُدا کا کلام ہے۔
عبرانیوں ۴:۱۲نبیوں نے سینکڑوں سال پہلے مسیح کے بارے میں پیشینگوئیاں کیں۔ یسعیاہ نبی نے کہا کہ ایک کنواری حاملہ ہوگی اور بیٹا جنے گی، اور میکاہ نبی نے بتایا کہ وہ بیت لحم میں پیدا ہوگا۔ یہ تمام پیشینگوئیاں یسوع مسیح میں پوری ہوئیں۔
یسعیاہ ۷:۱۴ ، میکاہ ۵:۲نئے عہد نامے میں چار اناجیل ہیں — متی، مرقس، لُوقا اور یُوحنّا۔ یہ چاروں یسوع مسیح کی زندگی، تعلیمات، معجزات، صلیبی موت اور جی اُٹھنے کا بیان ہیں۔ ہر انجیل مختلف زاویے سے مسیح کی کہانی بیان کرتی ہے۔
متی ، مرقس ، لُوقا ، یُوحنّاپولس رسول پہلے ساؤل کہلاتے تھے جو مسیحیوں کو ستاتے تھے۔ دمشق کی راہ پر یسوع مسیح نے اُنہیں بُلایا اور اُن کی زندگی بالکل بدل گئی۔ وہ غیر قوموں کے رسول بنے اور نئے عہد نامے کے بیشتر خطوط اُنہوں نے لکھے۔
اعمال ۹:۱-۲۰کلیسیا مسیح کا بدن ہے جو ایمانداروں کا مجموعہ ہے۔ کلامِ مُقدّس فرماتا ہے کہ تم مل کر مسیح کا بدن ہو اور الگ الگ اُس کے اعضا ہو۔ کلیسیا کوئی عمارت نہیں بلکہ وہ لوگ ہیں جو مسیح پر ایمان رکھتے ہیں۔
۱ کرنتھیوں ۱۲:۲۷یسوع مسیح نے فرمایا کہ مَیں اِس چٹان پر اپنی کلیسیا بناؤں گا اور عالمِ ارواح کے دروازے اُس پر غالب نہ آئیں گے۔ کلیسیا خُدا کی بادشاہی کو پھیلانے، ایمانداروں کی تربیت اور مسیح کی خوشخبری دُنیا تک پہنچانے کے لیے بنائی گئی۔
متی ۱۶:۱۸عشائے ربانی وہ مقدس رسم ہے جو یسوع مسیح نے قائم کی جس میں روٹی اُس کے بدن کی اور پیالہ اُس کے خون کی یادگار ہے۔ جب تک خُداوند نہ آئے ہم یہ روٹی کھا کر اور پیالہ پی کر خُداوند کی موت کا اعلان کرتے ہیں۔
۱ کرنتھیوں ۱۱:۲۳-۲۶یسوع مسیح نے خود حکم دیا کہ جا کر سب قوموں کو شاگرد بناؤ اور اُنہیں باپ اور بیٹے اور روح القدس کے نام سے بپتسمہ دو۔ بپتسمہ ایمان کا عوامی اعلان ہے اور مسیح کی فرمانبرداری کا پہلا قدم ہے۔
متی ۲۸:۱۹کلامِ مُقدّس فرماتا ہے کہ خُدا کے گلّے کی چرواہی کرو جو تمہارے درمیان ہے — لاچاری سے نہیں بلکہ خوشی سے، بدنیتی سے نہیں بلکہ رغبت سے۔ پادری اور ایلڈر کو کلیسیا کی رہنمائی، تعلیم اور حفاظت کرنی ہے اور گلّے کے لیے نمونہ بننا ہے۔
۱ پطرس ۵:۱-۴کلامِ مُقدّس فرماتا ہے کہ محبت سے ایک دوسرے کی خدمت کرو۔ یسوع مسیح نے خود شاگردوں کے پاؤں دھو کر خدمت کی مثال قائم کی۔ مسیحی خدمت دوسروں کو محبت سے مدد کرنا اور مسیح کے نمونے پر چلنا ہے۔
گلتیوں ۵:۱۳کلامِ مُقدّس فرماتا ہے کہ ایک بدن ہے اور ایک روح، ایک اُمید، ایک خُداوند، ایک ایمان، ایک بپتسمہ اور سب کا ایک خُدا اور باپ ہے۔ مسیحی اتحاد کا مطلب ہے کہ مسیح میں سب ایماندار ایک بدن کے اعضا ہیں اور اُنہیں محبت میں ایک رہنا چاہیے۔
افسیوں ۴:۴-۶یسوع مسیح نے فرمایا کہ تم ساری دُنیا میں جا کر ہر مخلوق کو خوشخبری سُناؤ۔ بشارت دینا مسیح کی نجات کا پیغام دوسروں تک پہنچانا ہے۔ ہر ایماندار کی ذمہ داری ہے کہ وہ مسیح کی خوشخبری کا گواہ ہو۔
مرقس ۱۶:۱۵یسوع مسیح نے فرمایا کہ اگر کوئی میرے پیچھے آنا چاہے تو اپنے آپ کا اِنکار کرے اور ہر روز اپنی صلیب اُٹھائے اور میرے پیچھے ہو لے۔ شاگردی مسیح کی تابعداری میں زندگی گزارنا، اُس سے سیکھنا اور اُس جیسا بننا ہے۔
لُوقا ۹:۲۳خُدا نے بتایا ہے کہ وہ تجھ سے کیا چاہتا ہے — صرف یہ کہ اِنصاف کر، رحم سے محبت رکھ اور اپنے خُدا کے ساتھ فروتنی سے چل۔ مسیحی فرائض میں محبت، خدمت، دُعا، سخاوت اور خوشخبری کی منادی شامل ہے۔
میکاہ ۶:۸شیطان خُدا اور اُس کے لوگوں کا دشمن ہے جو گرجنے والے شیر کی طرح ڈھونڈتا پھرتا ہے کہ کس کو نگل لے۔ وہ جھوٹ کا باپ ہے اور ابتدا سے خون کرنے والا ہے۔ لیکن مسیح نے صلیب پر اُس کی قدرت کو توڑ دیا۔
۱ پطرس ۵:۸خُدا وفادار ہے جو تمہیں تمہاری طاقت سے زیادہ آزمائش میں نہیں پڑنے دے گا بلکہ آزمائش کے ساتھ نکلنے کی راہ بھی پیدا کرے گا۔ خُدا ہمیں آزمائش میں تنہا نہیں چھوڑتا بلکہ فتح کا راستہ مہیا کرتا ہے۔
۱ کرنتھیوں ۱۰:۱۳کلامِ مُقدّس فرماتا ہے کہ خُدا کے سب ہتھیار باندھ لو تاکہ اِبلیس کے منصوبوں کے مقابلے میں قائم رہ سکو۔ اِن میں سچائی کا کمربند، راستبازی کا بکتر، ایمان کی سِپر، نجات کا خود اور روح کی تلوار یعنی خُدا کا کلام شامل ہے۔
افسیوں ۶:۱۰-۱۸کلامِ مُقدّس فرماتا ہے کہ روح کے موافق چلو تو جسم کی خواہش پوری نہ کرو گے۔ گناہ پر فتح روح القدس کی قوت سے ملتی ہے۔ جب ہم روح کی رہنمائی میں چلتے ہیں تو جسمانی خواہشات پر غالب آتے ہیں۔
گلتیوں ۵:۱۶کلامِ مُقدّس فرماتا ہے کہ خُدا نے ہمیں خوف کی روح نہیں دی بلکہ قدرت، محبت اور تربیت کی روح دی ہے۔ خُدا کی کامل محبت خوف کو دُور کر دیتی ہے۔ جب ہم خُدا پر بھروسہ کرتے ہیں تو خوف کی جگہ ایمان لے لیتا ہے۔
۲ تیمتھیس ۱:۷کلامِ مُقدّس فرماتا ہے کہ خُدا کے تابع ہو جاؤ اور اِبلیس کا مقابلہ کرو تو وہ تم سے بھاگ جائے گا۔ شیطان کے مقابلے کا طریقہ یہ ہے کہ خُدا کے قریب آؤ، اُس کا کلام پکڑو اور دُعا میں لگے رہو۔
یعقوب ۴:۷کلامِ مُقدّس خبردار کرتا ہے کہ بُری صحبت اچھی عادتوں کو بگاڑ دیتی ہے۔ ایمانداروں کو ایسے لوگوں کی صحبت اختیار کرنی چاہیے جو خُدا سے ڈرتے ہیں۔ ہوشیار رہو اور دانشمندی سے اپنے ساتھیوں کا اِنتخاب کرو۔
۱ کرنتھیوں ۱۵:۳۳کلامِ مُقدّس فرماتا ہے کہ نہ دُنیا سے محبت رکھو نہ اُن چیزوں سے جو دُنیا میں ہیں کیونکہ دُنیا کی خواہشات — جسم کی خواہش، آنکھوں کی خواہش اور زندگی کا غرور — باپ کی طرف سے نہیں بلکہ دُنیا کی طرف سے ہیں۔ دُنیا اور اُس کی خواہشیں مٹ جاتی ہیں لیکن خُدا کی مرضی پر چلنے والا ابد تک قائم رہتا ہے۔
۱ یُوحنّا ۲:۱۵-۱۷کلامِ مُقدّس فرماتا ہے کہ خُداوند میں اور اُس کی قدرت کی طاقت میں مضبوط ہو جاؤ۔ روحانی مضبوطی خُدا کے کلام کے مطالعے، مسلسل دُعا، روح القدس کی رہنمائی اور ایمانداروں کی رفاقت سے آتی ہے۔
افسیوں ۶:۱۰جب شیطان نے بیابان میں یسوع مسیح کو آزمایا تو اُنہوں نے ہر بار خُدا کے کلام سے جواب دیا — "لکھا ہے" کہہ کر۔ یسوع نے کلامِ مُقدّس کو شیطان کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کیا اور ہمیں بھی یہی کرنا چاہیے۔
متی ۴:۱-۱۱یسوع مسیح نے فرمایا کہ اُس دن اور اُس گھڑی کو کوئی نہیں جانتا نہ آسمان کے فرشتے نہ بیٹا بلکہ صرف باپ۔ اِس لیے ہمیں ہمیشہ تیار اور بیدار رہنا چاہیے کیونکہ وہ ایسے وقت آئے گا جب ہمیں خبر نہ ہوگی۔
متی ۲۴:۳۶جب خُداوند آسمان سے اُترے گا تو پہلے وہ جو مسیح میں مر گئے جی اُٹھیں گے پھر ہم جو زندہ ہیں اُن کے ساتھ بادلوں پر اُٹھائے جائیں گے تاکہ ہوا میں خُداوند سے ملیں۔ اور ہم ہمیشہ خُداوند کے ساتھ رہیں گے۔
۱ تھسلنیکیوں ۴:۱۶-۱۷کلامِ مُقدّس میں لکھا ہے کہ خُدا اُن کی آنکھوں سے سب آنسو پونچھ دے گا، نہ موت رہے گی نہ غم نہ رونا نہ درد۔ آسمان میں خُدا کا جلال ہوگا اور اُس کے شہر کی سڑکیں خالص سونے کی ہوں گی۔ یہ ایمانداروں کا ابدی گھر ہے۔
مکاشفہ ۲۱:۴ ، مکاشفہ ۲۱:۲۱جہنم خُدا سے ابدی جُدائی کی جگہ ہے جو اِبلیس اور اُس کے فرشتوں کے لیے تیار کی گئی۔ جس کسی کا نام زندگی کی کتاب میں نہ پایا گیا وہ آگ کی جھیل میں ڈالا جائے گا۔ یسوع مسیح پر ایمان لانا جہنم سے نجات کا واحد راستہ ہے۔
متی ۲۵:۴۱ ، مکاشفہ ۲۰:۱۵کلامِ مُقدّس فرماتا ہے کہ ہم میں سے ہر ایک خُدا کو اپنا حساب دے گا۔ عدالت کے دن ہر شخص اپنے اعمال، الفاظ اور نیتوں کا جواب خُدا کے سامنے دے گا۔ مسیح پر ایمان لانے والوں کو سزا کا خوف نہیں کیونکہ مسیح نے اُن کے بدلے سزا برداشت کی۔
رومیوں ۱۴:۱۲یسوع مسیح نے فرمایا کہ آخری زمانے میں جنگیں، زلزلے، قحط اور وبائیں ہوں گی۔ جھوٹے نبی اُٹھیں گے اور بہتوں کو گمراہ کریں گے۔ بہتوں کی محبت ٹھنڈی پڑ جائے گی لیکن جو آخر تک صبر کرے گا وہی نجات پائے گا۔
متی ۲۴:۳-۱۴کلامِ مُقدّس میں خُدا نے وعدہ کیا ہے کہ وہ نیا آسمان اور نئی زمین بنائے گا۔ خُدا نے فرمایا کہ دیکھو مَیں سب کچھ نیا بناتا ہوں۔ اُس نئی دُنیا میں خُدا لوگوں کے درمیان بسے گا اور نہ رونا ہوگا نہ درد اور نہ موت۔
مکاشفہ ۲۱:۱-۵یسوع مسیح نے فرمایا کہ بیدار رہو کیونکہ تمہیں نہیں معلوم کہ تمہارا خُداوند کس دن آئے گا۔ اِبنِ آدم ایسی گھڑی میں آئے گا جس کا تمہیں گمان نہ ہوگا اِس لیے تم بھی تیار رہو۔ ہوشیاری اور ایمانداری سے زندگی گزارنا مسیحی کا فرض ہے۔
متی ۲۴:۴۲-۴۴مکاشفہ نئے عہد نامے کی آخری کتاب ہے جو یسوع مسیح کا مکاشفہ ہے جو خُدا نے اُسے دیا تاکہ اپنے بندوں کو وہ باتیں دکھائے جن کا جلد ہونا ضروری ہے۔ اِس میں آنے والے واقعات، مسیح کی فتح اور خُدا کی ابدی بادشاہی کا بیان ہے۔
مکاشفہ ۱:۱کلامِ مُقدّس میں اعلان ہے کہ دُنیا کی بادشاہی ہمارے خُداوند اور اُس کے مسیح کی ہو گئی اور وہ ابدالآباد بادشاہی کرے گا۔ مسیح کی بادشاہی ابدی ہے جس کا کوئی خاتمہ نہیں اور اُس کے سامنے ہر گھٹنا جھکے گا۔
مکاشفہ ۱۱:۱۵